22 فروری 2012 - 20:30

ایک سعودی سیاستدان نے آہنی مکے کے عنوان سے آل سعود کی وزارت داخلہ کے دھمکی آمیز بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا: القطیف میں عوامی احتجاج پرامن ہے لیکن آل سعود کا خاندان ان مظاہروں کو دہشت گردی کا نام دے کر انہیں کچل رہا ہے جبکہ یہی خاندان بحرین، عراق، یمن اور شام میں دہشت گردوں کی پشت پناہی کررہا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کی مطابق منطقۃالشرقیہ کے عوام کے خلاف آل سعود کی تشہیراتی یلغار اور وزارت داخلہ نیز سعودی اخبارات کی طرف سے اس علاقے کے پرامن عوام کے خلاف دھمکی آمیز بیانات کو سعودی عرب کے سرگرم سیاسی و سماجی شخصیات اور سیاستدانوں کی جانب سے ملے جلے رد عمل کا سامنا ہے۔

العالم نیٹ ورک کے ویب بیس کے مطابق ایک طرف سے آل سعود سے وابستہ فورسز منطقۃالشرقیہ کی انتفاضہ تحریک کو کچلنے کی کوشش کررہی ہیں تو دوسری طرف سے معلوم ہوتا ہے کہ آل سعود کی سعی لاحاصل رہے گی۔

سعودی عرب کے فعال سماجی و سیاسی شخصیات کا کہنا ہے کہ القطیف میں ہونے والے مظاہرے پرامن ہیں لیکن آل سعود کی طرف سے اس علاقے کے عوام پر دہشت گردی کے الزامات جاری ہیں جبکہ یہی سعودی خاندان بحرین، عراق، یمن اور شام میں دہشت گردوں کی پشت پناہی کررہا ہے۔ اسی حوالے سے سعودی اپوزیشن راہنما فؤاد ابراہیم نے العالم نیٹ ورک سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: القطیف میں ہونے والے عوامی مظاہروں کی خبر دنیا والوں تک پہنچ چکی ہے اور حکمران خاندان مختلف قسم کے الزامات لگا کر انہیں کچلنے سے عاجز ہے۔

انھوں نے کہا: آل سعود کی حکومت اصلاح پسندی کی ہر تحریک اور ہر اقدام پر بیرون ملک وابستگی یا دہشت گردی کا الزام لگا کر کچلنا چاہتی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ آج آل سعود کے حکمران کے لئے یہ سمجھنا دشوار ہورہا ہے کہ عوام کی اصلاحی تحریک کے لئے کونسا لفظ استعمال کریں تو مناسب ہوگا۔

انھوں نے سعودی وزارت داخلہ کے دھمکی آمیز بیانات کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا: سعودی عرب میں دو اہم محاذ پائے جاتے ہیں جو ایک دوسرے کے مد مقابل کھڑے ہیں اور زورآزمائی میں مصروف ہیں: ایک محاذ حکمران خاندان اور برسر اقتدار طبقہ ہے جو ملک کی زمین، وسائل اور تمام اختیارات کا مالک بنا بیٹھا ہے اور دوسرا طبقہ عوام کا طبقہ ہے جس کو کچھ کرنے، منتخب ہونے حتی کہ منتخب کرنے اور کـچھ بولنے اور لکھنے یا کسی چیز کا مالک بننے کا اختیار حاصل نہیں ہے اول الذکر طبقہ ایک خاندان پر مشتمل ہے اور آخرالذکر طبقہ ملک کا اکثریتی عوامی طبقہ ہے جن میں سے کچھ لوگ اعلانیہ اختلاف کررہے ہیں کچھ لوگ حالات کی وجہ سے خاموش ہیں۔

انھوں نے کہا: منطقۃ الشرقیہ کے عوام کے مطالبات قانونی اور جائز اور پر امن ہیں جبکہ آل سعود کے ولیعہد نائف بن عبدالعزیز اپنے بیٹے محمد بن نائف پاکستان اور افغانستان اور دیگر ملکوں میں القاعدہ کی تشکیل نو میں مصروف ہیں اور یہی لوگ سعودی عرب میں الشرقیہ کے علاقے کے عوام کے مطالبات کو دہشت گردی کا نام دے رہے ہیں!۔

فؤاد ابراہیم نے کہا: سعودی عرب میں بسنے والے عوام کا مطالبہ ایک ایسے آئین کی منظوری ہے جس کے تحت بادشاہ اور اس کے خاندان کے اختیارات محدود کئے جاسکیں اور مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کو الگ الگ کیا جاسکے کیونکہ عوام کی رائے کے مطابق سعودی عرب آل سعود کا خاندانی مزرعہ Farm)) نہیں ہے۔

........

/169

تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:

سعودی عرب میں عوامی تحریک جاری؛ مکمل صورتحال؛آل سعود: العوامیہ کی پوری آبادی کو قتل کریں گے؛ آل سعود کو علمائے الاحساء کا انتباہ